Mahraka.. کھوار شاعری میں عروض کا استعمال (حصہ دوم) ۔۔۔ نقیب اللہ رازی <= Back to ARTICLES Page

کھوار شاعری میں عروض کا استعمال (حصہ دوئم)

محمد نقیب اللہ رازی
اسی مضمون کا حصہ اول پڑھنے کے لیے
یہاں جائیے۔۔۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے، کھوار شاعری کا قدیم ترین تحریری نمونہ مرزا محمد شکور غریب کا کلام ہے جو اٹھارویں صدی کے نصف دوئم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دستیاب کلام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کھوار شاعری میں عروض کے اصولوں کی مکمل پابندی کی ہے۔ ان کے دیگر ہم عصر اور ان سے پہلے کے چترالی شعراء کا فارسی کلام تحریری صورت میں محفوظ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان کا کھوار کلام صرف زبانی طور پر نقل ہوا ہے۔ چونکہ ان کے فارسی کلام میں عروض کی پوری پابندی کی گئی ہے، اس لیے ہم بجا طور پر توقع کر سکتے ہیں کہ انہوں نے بھی کھوار شاعری میں بھی عروض کے اصولوں کو مد نظر رکھا ہوگا۔ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کھوار کے کم از کم وہ شعراء جو لکھے پڑھے تھے اور فارسی شاعری بھی کرتے تھے، ضروراپنی کھوار شاعری میں بھی عروض کی کسی حد تک پابندی کرتے ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ زبانی نقل ہونے کی وجہ سے ان کا کلام کچھ کا کچھ ہوگیا ہے۔

کسی بھی زبان میں عوامی گیت لکھنے والوں سے، جو بیشتر اوقات پڑھے لکھے نہیں ہوتے، یہ توقع کم ہی ہوتی کہ وہ عروض جیسی پابندیوں کے ساتھ کلام تخلیق کریں۔ لیکن لکھے پڑھے شاعر جو متعین اصناف میں شعر کہتے ہیں، اپنے آپ کو پابندیوں سے آزاد نہیں کرسکتے۔ بدقسمتی سے کھوار شعراء میں سے کئی لکھے پڑھے حضرات عروض کا خیال نہیں رکھتے۔ نہ صرف یہ کہ وہ ان اصولوں کا خیال نہیں رکھتے بلکہ شد و مد سے ان کو غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حضرات تن آسانی کے سبب اس فن کی کتابیں پڑھنے اور اس پر عبور حاصل کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اب اپ ہی انصاف کریں کہ کسی فن پر عبور حاصل کیے بغیر اس پر بحث میں خود کو الجھانا حماقت نہیں تو کیا ہے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ شعر اور غیر شعری کلام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شعر کی پانچ مبادیات ہوتی ہیں، یعنی قصد، وزن، بحر، قافیہ اور ردیف۔ جس کلام میں ان پانچ میں سے ایک چیز بھی کم ہو تو وہ شعر نہیں کہلا سکتا۔ ہمارے بعض شعراء درست زبان، فصاحت و بلاعت اور تشبیہ و استعارات کے ساتھ جملے ترتیب دینے کو شاعری سمجھتے ہیں۔ ان چیزوں کے ساتھ آپ ادبی شہ پارہ تو تخلیق کرسکتے ہیں لیکن اسے شعر نہیں کہہ سکتے۔

ہمارے ہان کچھ لوگ مقفیٰ مزاحیہ جملوں کا تبادلہ کرنتے ہیں (اور شاید اسی وجہ سے کھوار میں ہنسی مذاق کو "قافیہ" کہا جاتا ہے)، لیکن ان جملوں کو کوئی شعر کا درجہ نہیں دیتا۔ اور نہ ہی کہنے والے کا مقصد شعر کہنا ہوتا ہے۔ اسی طرح قران مجید مین بہت سی ایآت ہم قافیہ ہیں لیکن وزن شعری ان میں نہیں پایا جاتا، جیسے سورۂ رحمان کی آیتیں۔ دیگر کئی آیتوں میں وزن پایا جاتا ہے لیکن وہ کسی مروجہ عروضی بحر میں نہیں۔ اس لیے قران مجید کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ یہ شعر نہیں۔ اگر شاعری کی ضروریات میں سے وزن اور بحر کو نکال دیا جائے تو ہم کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ ایات قرآنی شعر نہیں ہیں۔

شاعری کے لیے اس قسم کی پابندیاں صرف عربی، فارسی اور اردو جیسی زبانوں ہی میں نہیں بلکہ انگریزی ادب سے واقف لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ انگریزی شاعری کے ابھی اپنے اصول و ضوابط ہیں مثلاً وزن اور قوافی، جن کی پابندی کے بغیر شاعری نہیں کی جاسکتی۔ اسی پر ہم دنیا کی دیگر زبانوں کو قیاس کرسکتے ہیں۔ چونکہ کھوار شاعری مضامین اور خیالات میں عربی، فارسی اور اردو سے متاثر ہے۔ نیز اصناف شاعری بھی انہی زبانوں سے مستعار لی گئی ہیں اس لیے قواعد شعریہ میں بھی ان زبانوں کا اتباع کیوں کر معیوب گردانا جاسکتا ہے۔

یہاں پر ہم مرزا محمد شکور کے کلام کے نمونوں کا عروض کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ کلام اٹھاریں صدی کے وسط کا ہے، یعنی کوئی پونے تین سو سال پرانا۔ یہ کلام نہ صرف تحریری طور پر محفوظ ہے بلکہ "مشک ختن" کے نام سے چھپ چکا ہے۔

اے دل تو یکی سیر بعالم نو کوروس کو
یک چند تماشائے دش جم نو کوروس کو
یہ پوری غزل بحر ہزج میں ہے۔ وزن اس کا یوں ہے:
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
اس وزن کے ارکان چار ہیں۔ یعنی ایک مصرعے میں چار اور شعر میں آٹھ ارکان۔ اس لیے اس وزن کو مثمن (آٹھ ارکان والا) کہتے ہیں۔ چونکہ بحر ہزج کا اصل وزن "مفاعیلن" چار بار ہے۔ مذکورہ وزن اسی رکن میں تعیر کرکے بنایا گیا ہے جسے زحاف کہا جاتا ہے۔ زحاف کے انے کے بعد سالم رکن کے نام بھی اسی مناسبت سے بدل جاتے ہیں۔ یعنی رکن سالم "مفاعیلن" میں جو تبدیلی آئی ہے اسی کے نام سے وہ رکن موسوم ہو جاتا ہے۔ اوپر والے وزن کے ارکان کے نام یہ ہیں:
اخرب- مکفوف- مکفوف- محزوف
تقطیع اس طرح ہوگی
مصرع ایدل تُ یکی سیر بعالم نُ کرس کو
وزن مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
نام ارکان اخرب مکوف مکوف محذوف
تقطیع میں وہ حروف شامل نہیں ہوں گے جن کی اواز مدہم ہو۔ بسا اوقات وزن کو موافق بنانے کے لیے حروف علت (و - ا - ی) کو عروضی اصولوں کے مطابق گرایا جاتا ہے۔ اسے ضرورت شعری کہا جاتا ہے۔ اسی بحر میں اسی شاعر کی ایک اور غزل ہے:
اے بار خدایا مو چھینے قدر چمن را
گرزینہ مو انگیے زکرم زاغ و زغن را
تقطیع اس کی کچھ یوں ہے:
ایبار خدایا مُ چنے قدر چمن را
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
گرزینَ مُ انگے زِ کرم زاغُ زغن را

یہاں اس چیز کا تذکرہ بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ عروض کے ساتھ قافیہ اور ردیف کے استعمال کے بھی ضابطے ہیں۔ مثلاً کھوار میں "چمن" کو بعض شاعر "انسان" "مکان' وغیرہ کے ساتھ قافیہ لاتے ہیں۔ یعنی "چمن" میں الف کا اضافہ کرتے ہیں۔ یہ علم عروض ہی نہیں بلکہ لغت اور املا کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اسی ظرح "غمخوار" "اظہار" وغیرہ کے ساتھ "سحر" "سفر" جیسے الفاظ کو قافیہ لایا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں "سحار" "سفار" لکھنا پڑتا ہے جس سے ان الفاظ کی صورت ہی مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔

العرض علم عروض سے ناواقفیت کی وجہ سے صرف کلام نہ صرف شعر کے مرتبے سے گر جاتا ہے بلکہ لغت، محاورہ اور بلاغت کی رو سے بھی غلطیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں پڑھیے صالح ولی آزاد کا مضمون۔۔۔
MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com