<= BACK

کھوار زبان کا ارتقاء

ممتاز حسین

انسانی زبانیں آپس میں تعامل کرتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ زبان یا تو کسی اور زبان کو اپنے الفاط مستعار دیتی ہے یا اس سے الفاط لے لیتی ہے۔ عام طور پر یہ عمل دو طرفہ ہوتا ہے، لیکن ہمیشہ یکساں نہیں۔ طاقتور زباں ہمیشہ چھوٹی زبانوں کو اپنے زیادہ الفاط مستعار دیتی ہے اور ان سے کم لیتی ہے۔ زبان کے بڑے ہونے کا دارو مدار صرف اس کے بولنے والوں کی تعداد پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ترقی یافتہ ہونا، بولنے والوں کا سیاسی، معاشی یا ثقافتی طور پر غالب ہونا اور زبان کا علوم و فنون کا حامل ہونا بھی اس کی طاقت ہے۔ زبان میں زیادہ تر تبدیلیاں الفاط مستعار لینے سے آتی ہیں لیکن کچھ تبدیلیاں اندرونی عوامل کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں۔ طویل عرصے کے اندر ایک زبان بیرونی اثرات سے قطع نظر بھی اپنی اصل سے رفتہ رفتہ دور ہوتی جاتی ہے۔

کھوار کوئی بڑی زباں نہیں، اس لیے اس نے دوسری زبانوں سے استفادہ زیادہ کیا ہے اور دوسروں کو نسبتاً  کم کچھ دیا ہے۔ یہ استفادہ بڑی زبانوں کی قربت، سیاسی اثرات، تجارتی روابط، مذہبی اور علمی ضروریات، العرض بہت سی وجوہات کی بناء ہر ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ اندرونی طور بھی نئے الفاط جم لیتے رہے اور الفاط کی شکل تبدیل ہوتی رہی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کھوار بولنے والوں کو موجودہ علاقے میں بسے ہوئے ایک ہزار سال سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ موجودہ مقبول نظریات کے مطابق انڈو آرئین بولنے والے گروہ جنوب کے دامن کوہ سے ہندو کُش کی وادیوں میں مختلف لہروں کی صورت میں سرایت کرتے رہے۔ ان کی اولیں لہروں کے آثار ہمیں ان پرانی قبروں کی کھدائی سے ملتے ہیں جو چترال اور دیگر ملحقہ علاقوں مِیں بڑی تعداد میں دریافت ہوئے ہیں۔ ان کی قدامت کا اندازہ تین چار ہزار سال لگایا جاتا ہے۔ یہ اثار جس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں اسے پروفیسر دانی نے Indian Grave Culture کا نام دیا ہے۔ یہ آثار مطبوط شواہد کے حامل ہیں کہ ہندوکش کی وادیوں کے رہنے والے شمال کی نسبت جنوب کے علاقوں سے زیادہ رابطے میں رہے ہیں۔

آرئین لوگوں کے یہاں آنے سے پہلے یہاں کسی اور نسل کے لوگ ضرور رہتے ہونگے لیکن ہمارے پاس ان کے بارے میں معلومات کی شدید کمی ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں مفروضات وضع کرنے اور بعد میں آنے والے لوگوں پر ان کے اثرات کو کا تعین کرنے میں فی الحال کسی بڑی کامیابی کی امید نہیں۔ غالباً یہ لوگ ثقافتی طور پر پسماندہ اور تعداد میں بہت کم تھے اس لیے ان کے اثرات اگر باقی رہے بھی ہوں تو نہایت قلیل اور ناقابل شناخت ہونگے۔ یاد رہے کہ ماہرین آثار قدیمہ گزشتہ سو سالوں کے دوراں وادی سندھ کی تہذیب کے اس کے مابعد تہذیبوں پر اثرات کو کھوجنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ بلکہ ابھی یہ طے ہونا بھی باقی ہے کہ آیا یہ لوگ دراوڑی نسل کے تھے بھی یا نہیں۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ گلگت ریجن کے بروشسکی لوگ انڈو آرئین لوگوں کے آنے سے پہلے اس علاقے میں کافی وسیع خطے پر آباد تھے، جس شاید چترال بھی شامل تھا۔ اس مفروضے کے ساتھ کئی مسائل ہیں۔ جیسے بروشسکی بولنے والوں کی اصلیت کے بارے میں ابھی تک کوئی شواہد دستیاب نہیں اور نہ یہ معلوم ہوسکا ہے کہ وہ کب سے یہاں ہیں۔ آیا وہ انڈو ارئین لوگوں کی آمد سے پہلے یہیں موجود تھے یا بعد میں کہیں سے آگئے۔ مزید یہ کہ ان کی دنیا کی کسی اور لسانی یا نسلی گروہ سے تعلق بھی دریافت نہیں ہوسکا ہے۔

انڈو آرئین لوگوں کی ایک بڑی لہر اندازاً کوئی ایک ہزار سال یا اس سے زیادہ قبل جنوب سے شمال کی طرف آکر چترال کی وادی میں پھیل گئی۔ یہ گروہ ایک انڈوآرئین زبان بولتی تھی جو شنا اور کوہستانی زبانوں کے قریب تر تھی۔ وادی چترال میں بسنے کے بعد ان کے کلچر اور ان کی زبان پر بیرونی اثرات پڑنے شروع ہوئے۔ چونکہ وادی کے شمالی حصوں کا رابطہ وسط ایشیاء سے اور جنوبی حصوں کی قربت نورستانیوں سے زیادہ تھا، اس لیے ان دونوں حصوں میں کلچر اور زبان کے ارتقاء کی راہیں جدا ہوگئیں۔ شمال میں تاجک، وخی اور کسی حد تک ترک اثرات کے نتیجے میں کھونسل، ان کا کلچر اور کھوار زبان کا وجود عمل میں آیا۔ جنوب کے علاقوں میں نورستانیوں کے اثرات کے تحت لوگوں کے کلچر (مذہب) اور زبان دونوں میں کسی قدر تبدیلی آئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لسانی اور ثقافتی حوالوں سے یہاں دو گروہ وجود میں آگئے۔ بعد میں شمال پر اسلام کے اثڑات نے یہ فرق مزید واضح کردیا۔ اس زمانے میں اس علاقے کی وادیوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آگئیں، جن کے حکمران 'میتار' کہلانے لگے۔ ان حکمرانوں میں سے کچھ کے نام اور حکایات مقامی روایات میں محفوط ہیں، جیسے بہمن، سوملک، یاری بیگ، بھُلے سنگھ، راجہ وائے وغیرہ۔

سولہویں صدی میں کاشعر کے ترکوں نے چترال پر فوج کشی کی اور موجودہ چترال شہر اور مستوج میں اپنے علاقائی مراکز قائم کیے جہاں قلعوں میں ان کی فوج رہتی تھی۔ ان کے زیر اثر یہاں اسلام کسی قدر پھیلا، خصوصاً شمالی حصوں کے کھوار بولنے والوں میں۔ تقریباً اسی زمانے میں بدخشان کی طرف سے بھی یہاں مداخلت شروع ہوگئی اور ترکوں کی واپسی کے بعد یہاں تاجک حکمراں بن گئے۔ ان حکمرانوں کو تاریخ میں 'رئیس' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہاں اسلام کے فروع میں زیادہ اہم کردار ادا کیا اور نیچے کی طرف دروش تک وادی کے لوگوں کی اکثریت ان کے زیر اثر مسلمان ہوگئی۔ تاہم ذیلی وادیوں میں بدستور پرانے مذہبی طور طریقے برقرار رہے۔ چونکہ شمال کے کھوار بولنے والے پہلے ہی مسلمان ہوچکے تھے اس لیے وہ جنوب کی طرف اقتدار بڑھانے میں نئے حکمرانوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زبان بھی پھیلانے کا سبب بنے۔ چنانچہ رئیس عہد میں دروش تک کھوار اکثریت کی زبان بن چکا تھا۔

اس عرصے میں کھوار زبان پر شمال کے اثرات زیادہ پڑے اور وہ روز بروز کلاشہ سے دور ہوتی گئی۔ اس کے ذخیرہ الفاط میں فارسی الفاط کی کثرت ہوگئی۔ کھوار میں فارسی، وخی اور دیگر پامیری زبانوں نیز ترکی زبانوں کے الفاط ہر دور میں شامل ہوتے رہے۔ ان الفاط کو آسانی سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول وہ الفاط جو کھوار زبان کی چترال میں ارتقاء کے بالکل ابتدائی ادوار میں (یا اس سے بھی پہلے)  اس میں شامل ہوئے اور ان کی شکل اتنی بدل گئی ہے کہ ماہرین لسانیات ہی ان کی پہچان کرسکتے ہیں۔ دوسرے وہ الفاط ہیں جو کھوار کا الگ تشخص قائم ہونے کے بعد سیاسی اور مذہبی ذرائع سے کھوار میں آئے۔ دوسری قسم کے الفاط میں عربی الفاط بھی شامل ہیں جو فارسی کے ذریعے آئے۔

چونکہ چترال میں ابتدائی ریاست کا قیام وسط ایشیاء کے ترک اور تاجکوں کے ہاتھوں عمل میں آیا اور ایک عرصے تک وہ یہاں حکومت کرتے رہے، اس لیے وسط ایشیائی تہذیب، ثقافت اور زبانوں کو برتر سمجھا جاتا رہا۔ چنانچہ با اثر لوگ وسط ایشیائی طور طریقے اختیار کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ اس کا اثر لباس، نشست و برخاست، رسوم و رواج یہاں تک کہ زبان پر بھی پڑا۔ یہی چیز معاشرتی طبقات کو وجود میں لانے کا سبب بنا۔ یاد رہے کہ دوسری طرف کلاش لوگوں میں معاشرتی طبقہ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی۔ چترال کے اوپر کی سطح کے طبقوں کی زبان بھی کسی قدر مختلف ہوگئی جس میں فارسی الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال زیادہ استعمال ہونے لگے۔

قریباً دو سو سال تک چترال پر ترکوں اور تاجکوں کی حکومت رہی جس کے دوران وسط ایشیاء سے چترال کی طرف آبادی کی کچھ منتقلی ضرور ہوئی ہوگی۔ لیکن یہ انفرادی تارکین وطن تھے اور ان علاقوں سے آبادی کی کسی بڑی نقل مکانی کے شواہد نہیں ملتے۔ چنانچہ یہاں کی زبان پر ان کے اثرات کچھ نئے الفاظ کے اضافے سے زیادہ نہیں تھے۔ دوسری جانب جنوب کے علاقوں اور چترال کے درمیاں آبادی کے تبادلے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا اور کئی گروہ یہاں آکر آباد ہوئے، جنہوں نے یا تو اپنی زبان برقرار رکھی یا پھر مقامی زبان پر گہرے اثرات ڈالے۔ پہلی مثال پالولہ، دمیلی ، گواربتی اور نورستانی زبانوں کی ہے جب کہ دوسری مثال ان لوگوں کی جو چوک مچوک کی روایت کے مطابق بالائی چترال کے کئی علاقوں میں آباد ہوئے۔

اٹھارویں صدی میں چترال میں پہلی مرتبہ ایک مرکزی حکومت ایسی قائم ہوئی جس کا مرکز اقتدار چترال سے باہرشمال میں کہیں نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان نئے حکمرانوں نے شمال کے علاوہ  جنوب سے تعلقات کو بھی اہمیت دی۔ تاہم اس دور تک جنوب میں پشتون قبائل انڈو آرئین لوگوں کو بیشتر علاقوں سے بے دخل کرکے قابض ہوچکے تھے۔ لہٰذا نئے رابطوں کے نتیجے میں جنوب کی طرف سے چترال پر پشتونوں کے لسانی اور ثقافتی اثرات پڑنے شروع ہوگئے۔ جنوبی چترال میں رہے سہے کلاش کلچر کا خاتمہ اور آرتھوڈکس اسلام کا پھیلاؤ پشتون اثرات کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ جنوب کے کچھ علاقوں میں پشتون تارکین وطن آکر اباد ہونے لگے۔ ان اثرات کے تحت جنوبی علاقوں میں کھوار زبان میں بھی تبدیلیاں ائیں اور جنوب اور شمال کی بولیوں میں کسی قدر فرق وجود میں آیا۔

چترال کی مقامی ریاست نے شروع ہی سے  اپنا دائرہ اثر گلگت کی شمالی وادیوں غذر، یاسین، اشقمن اور پونیال تک بڑھا لیا تھا ۔ اور حکمراں خاندان کی ایک شاخ چترال کے شمالی حصے سمیت شندور پار اس کے اس علاقے پر حکمران رہی۔ اس خاندان نے اپنا اقتدار جنوب میں گلگت تک کئی بار وسیع کیا۔ اس طرح کھو کلچر اور کھوار زبان اس علاقے میں کسی حد تک قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اس علاقے میں برسر اقتدار خاندان اور امراء کی زبان ہونے کی وجہ کھوار کو زیادہ کلچرد زبان سمجھا جانے لگا۔ 1880 کے بعد یہ علاقہ بھی خاص چترال میں قائم کٹور حکمران کے زیر اقتدار آگیا۔ اس حکمران نے کھو نسل کی کافی آبادی کو ان نئے علاقوں میں آباد کیا جس سے نہ صرف علاقے میں کھوار زبان کو مزید فروع حاصل ہوا بلکہ مختلف علاقوں کی زبان میں کافی یکسانیت بھی آگئی۔ اس سارے عرصے کے دوران کھوار نے نہ صرف بروشسکی سے کئی الفاط مستعار لے لیے بلکہ اس زبان کو بھی اپنے بہت سے الفاط دے دیے۔

انگریزوں کے آنے کے بعد کھوار بولنے والوں کو  نئی زبانوں اور ثقافتوں سے تعارف حاصل ہوا۔ انگریزوں کے ساتھ بہت سے فوجی اور دیگر ہندوستانی اہلکار یہاں آئے جو اردو زبان کو رابطے کے لیے استعمال کرتے تھےاس طرح انگریزی اور اردو کے بہت سے الفاط کھوار میں شامل ہوئے۔ یہ سلسلہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا اور کھوار کا ذخیرہ الفاط ایک صدی پہلے کے مقابلے میں بہت وسیع ہوا۔

انگریزوں کے زمانے میں گلگت کے وہ علاقے جو ریاست چترال کا حصہ تھے، اس سے الگ کر دیے گئے۔ اس طرح ان علاقوں کا رابطہ چترال سے نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔ یہ صورت حال پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہی جس کے نتیجے میں ان دو علاقوں بولی جانے والی زبان میں فرق بڑھتا گیا۔ تاہم اب ذرائع ابلاع اور آمد ورفت کی سہولتوں میں اضافے کی وجہ سے زبان پھر سے یکسانیت کی طرف آرہی ہے۔

کھوار زبان کے فوک لور پر بھی ان ارتقائی ادوار کا اثر صاف نظر آتا ہے۔ بہت پرانے زمانے کے گیتوں اور لوک کہانیوں کا رنگ بالکل مقامی ہے، جب کہ بعد کے ادوار میں فارسی اور وسط ایشیائی رنگ غالب ہوتا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ طبقاتی رنگ بھی دونوں اصناف مین دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً گھروں میں عام لوگ بچوں کو جو کہانیاں سناتے ہیں وہ بالکل مقامی رنگ کی اور فطرت سے زیادہ ہم آہنگ ہیں، جیسے جانوروں کی کہانیاں۔ لیکن درباروں اور اعلیٰ طبقے کے گھروں میں فارسی داستانوں سے ماخوذ طویل کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ گیتوں میں بھی اس قسم کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ لالو زنگ اور یورمن ہمین، یارخونو حاکمو دنی اور پردُم خانو باشاونو اس کی مثالیں ہیں۔

خلاصہ بحث

کھوار ایک انڈو آرئین زبان ہے جس کا بیشتر ارتقائی دور چترال کی شمالی وادیوں میں گزرا۔ بالکل شروع میں کھوار اور کلاشہ ایک ہی زبان تھی، جو مختلف عوامل کی وجہ سے رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے گئے۔ بعد میں سیاسی اور مذہبی محرکات نے کلاشہ بولنے والوں کو اپنی زبان ترک کرکے کھوار اپنانے پر مجبور کیا۔ اس طرح یہ سارے علاقے کی زبان بن گئی۔ سیاسی عوامل نے ہی کھوار کو گلگت کے شمالی حصوں میں پھیلایا اور یہ اس علاقے کی ایک اہم زبان بن گئی۔ اپنے طویل ارتقائی دور کے دوران کھوار نے فارسی، وخی، ترکی، پشتو، اردو، بروشسکی اور انگریزی سے الفاط مستعار لیے جو اب اس کا مستقل حصہ ہیں۔ ان تمام اثرات کے باوجود کھوار کا انڈو آرئیں رنگ اب بھی نمایاں ہے۔ اس کا اسٹرکچر اور لہجہ اب بھی فارسی سے بالکل الگ اور انڈو آرئین زبانوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com