دارکھوت کے پار- ایک سفر کی کہانی: شمس الحق قمر
BACK

دارکھوت کے پار: ایک سفر کی کہانی

شمس الحق قمر

دارکھوت، گلگت بلتستان کی وادی یاسین کا ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں کے اوپر ایک بلند پہاڑی درہ ہے جس کو پار کرکے چترال کی وادی یارخون کے بالائی حصے بروغل میں داخل ہوا جاسکتا ہے۔ اس درے کی بلندی 15000 فٹ سے زیادہ ہے اور اس کا تقریباً سارا راستہ ایک گلیشیئر پر سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہ ایک دشوار درہ ہے۔ اس کے باوجود یہ درہ بہت قدیم زمانے سے دفاعی اور تجارتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس درے کی اہمیت اس وجہ سے کہ یہ ہے گلگت بلتستان کو وسط ایشیا سے ملانے کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ ماضی میں شمال کی جانب سے گلگت بلتستان پر جتنے بھی حملے ہوئے وہ اسی درے کے ذریعے ہوئے۔

تاریخ میں معلوم پہلا حملہ جو اس درے کے ذریعے ہوا وہ 747ء میں ایک چینی جرنیل Kao Hsien-Chi کا تھا۔ اس نے گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے والے تبتی فوجوں کو بدخشان پر حملے سے روکنے کے لیے یارکند سے ایک بڑی فوج کے ساتھ پیش قدمی کرکے واخان اور دارکھوت کی راہ سے وادی گلگت میں داخل ہوا۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں تبتیوں کو شکست ہوئی، اور اس علاقے سے تبت کی بالادستی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس حملے کے بعد کئی مرتبہ کاشغر یارکند اور بدخشان سے ان علاقوں پر حملے ہوئے تو اسی درے کو استعمال کیا گیا۔

انگریزوں اور روسیوں کے درمیاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ایشاء پر بالا دستی کے لیے کشمکش شروغ ہوئی۔ تاریخ میں گریٹ گیم کے نام سے مشہور اس کشمکش کا ایک اہم مرکز گلگت تھا۔،اس لیے اس زمانے میں درہ دارکھوت کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ انگریز یہ سمجھتے تھے کہ روسیوں کی جانب سے ہندوستان پر حملے کا سب سے بڑا خطرہ اسی درے کے ذریعے ہے۔ اسی درے کے کو پار کرکے بدخشان پہنچنے کی کوشش میں مشہور مہم جو جارج ہیوارڈ کو دارکھوت کی غاری (بلند پہاڑی چراگاہ) میں قتل کر دیا گیا۔ یہ1870 کا واقعی تھا۔ اس قتل کے علاقے کی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے بعد ورشگوم اور مستوج سے خوشوقت خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا، اور کٹور خاندان کا اقتدار اس علاقے تک پھیل گیا۔ اس کے علاوہ علاقے میں مہاراجہ کشمیر اور انگریزوں کا اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

اس درےکو سال کے مختلف حصوں میں پار کرنے کی بے شمار کامیاب اور ناکام کوششیں ہوئیں۔ 1995 میں تین نوجوان بغیر کسی تیاری اور تجربے کے، اس درے کو پار کرکے وادی یاسین میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک سے اس سفر کی رورداد سنیے۔ (ایڈیٹر)

آج سے بیس سال پہلے کا قصہ ہے کہ ہم نے بر وغل کی سیر کا پروگرام بنایا۔ آج کل تو گرمیوں میں ہر دوسرا بندہ ادھر کا چکر لگا اتا ہے، کیونکہ موٹر گاڑی وہاں تک جاتی ہے۔ پر اُن دنوں یہ بڑے دل گردے کا کام تھا، کیونکہ بونی سے بروغل تک کے فاصلے کا آدھا پیدل طے کرنا تھا۔ ہم میں دل گرے شاید ضرورت سے زیادہ تھے (یا پھر صرف دل گردے ہی تھے) اس لیے بونی ہی سے پیدل چلنے کا فیصلہ ہوا۔ اس ناتجربہ کار قافلے کے تین سیاحوں میں اپنے علاوہ مظفر حسین شاہ اور شمس الدین شامل تھے ۔ شمس الدین میر کاروان مقرر ہوئے۔

گھر سے اجازت ملنا مشکل تھا، اس لئے نہیں کہ طویل اور دشوار سفر کوگھر والے ہماری جان، مال اور اخلاق وغیرہ کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، بلکہ اس لئے کہ یہ ہمارے گاؤں میں چاول کی بوائی کا موسم تھا، جو کہ انتہائی مشقت طلب اور labour intensive کام ہے۔ اگر گھر کے سارے چھوٹے بڑے مل کر کام نہ کریں، تو اس کام کا بر وقت مکمل ہونا ممکن نہیں ہوتا ہے ۔ اِدھر ہم نے عین اس نازک وقت پر بروغل کے سفر پر جانے کا اعلان کیا۔ میں نے گھر والوں کواعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ دوسروں کو راضی کرنا تو اتنا مشکل نہیں تھا لیکن ہمارے ایک چچا کچھ ٹیڑھی طبیعت کے ہیں۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں تھا۔ لیکن انہیں بھی جیسے تیسے رام کرلیا۔

میں ویسے بھی زمینداری کے کاموں میں کوئی خاص نہیں تھا۔ میرا چھوٹا بھائی احسان الحق مجھ سے بہت بہتر زمیندار تھا ۔ وہ جلانے کی لکڑی ڈھوتا بلکہ کھیت میں ہل تک چلا لیتا، جو نہ صرف مشقت طلب بلکہ ٹیکنیکل کام ہوتا ہے۔ میں شروع دن سے ہی بہت نکما تھا۔ اس لیے ہلکے پھلکے کام کیا کرتا تھا، جیسے بازار سے سودا سلف لانا یا مہمانوں کی دیکھ بھال کرنا ۔ میرا یہ نکما پن اس موقع پر کام آیا اور اجازت مل گئی۔

میرے پاس ایک سلپنگ بیگ اور ایک بڑا مووی کیمرہ تھا۔ ہم نے صبح سویرے پیدل اپنے سفر کا آغاز کیا ۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہم پرواک میں تھے۔ ہم ایسے خوش تھے گویا حج پر جا رہے ہوں۔ ہمیں تھکاوٹ کا احساس بالکل نہیں ہو رہا تھا۔ پہلی رات ہم نے دیزگ میں گزاری۔ اگلی صبح روانہ ہوئے تو ہمیں ایک پورٹر کی ضرورت کا احساس ہونے لگا۔ ہماری مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ پورٹر کا پورا معاوضہ ادا کرسکیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسا آدمی چاہیے تھا جو کہ مفت میں یا تقریباً مفت میں کام کرے۔ ایسا بندہ دنیا میں کہاں ملتا ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یہ انہونی بھی ہو گئی۔ پاور پہنچے تو ہمیں بیگ محمد ملے۔ بیگ محمد یوں تو ایک عام سا شخص ہے۔ یہ لوگوں کو محظوظ کرنے کے لئے مقامی سیاستدانوں کی طرز پر اُلٹی سیدھی تقریریں کرتا رہتا ہے۔ اس علاقے میں ہر چھوٹا بڑا بیگ محمد سے واقف ہے اور سب اُسے پسند کرتے ہیں ۔ بیگ محمد سے ہماری بھی شناسائی تھی۔ اس کے علاوہ ہمارے لیے یہ بات اہم تھی کہ بیگ محمد کو وخی زبان آتی تھی۔ ہم جس وقت پاور پہنچے تو بیگ محمد اور اُس کی والدہ پاور گول کی دوسری جانب پن چکی میں اٹا پیس رہے تھے ۔ بیگ محمد ہم سے ایسے ملے جیسے ہمارا اور اُس کا برسوں کا یارانہ ہو ۔ ہم نے انہیں اپنا ہمسفر بننے کی دعوت دی تو فوراً راضی ہو گئے۔ معاوضے وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ البتہ والدہ کی اجازت کی شرط رکھی۔ ہم سے مل کر بیگ محمد دوبارہ پن چکی کے اندر گئے اور تھوڑی دیر بعد اپنی والدہ کے ساتھ باہر آئے۔ والدہ نے اُسے دیر تک گلے سے لگائے رکھا۔ لمبی چوڑی دعائیں دیں اور بلائیں لیں۔ بیگ محمد نے دو دفعہ والدہ کے ہاتوں کو بوسہ دیا اورچند قدم اُلٹے پاؤں چل کر ماں سے رخصت ہوا۔ یہ بعد میں معلوم ہوا کہ بیگ محمد اور اُسکی والدہ نے اتنی دیر تک ایک دوسرے سے کیا کیا باتیں کیں تھیں ۔

بہر حال بیگ محمد ہمارے ساتھ چل پڑے۔ ان کے پاس والدہ کی دعاؤں کے علاوہ اگر کچھ تھا تو وہ ایک گلو کوز ڈرپ کی استعمال شدہ تھیلی جو وہ پانی پینے کے لئے استعمال کرتا تھا ( وہ راستے میں پانی بار بار پیتا تھا)، ایک چھوٹی سی رسی، لاٹھی اور ایک چاقو تھا ۔ بیگ محمد چلتے ہوئے وہ تمام حرکتیں علٰی اعلان کرتا تھا جو ہم دل میں کرتے تھے، یعنی موقع بے موقع ناچنا گانا۔ بقول ضمیر جعفری۔۔۔۔۔
بلیغ الدین در دل، اندرونِ جان می رقصد
محمد خان جب رقصد، علی الاعلا ن می رقصد!

یوں بیگ محمد کی دلچسپ رفاقت میں ہم آگے بڑھتے رہے اور دوسری رات دوبارگر میں کٹھملوں کی رفاقت میں گذری، بلکہ آدھی گذری تو ہم اٹھ کر دریا کے کنارے چلے گئے اور باقی وہاں گذار دی۔
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات۔
ہنس کر گذار یا اسے رو کر گذار دے
دوبارگر سے صبح چلے تو یارخون لشٹ پہنچے۔ یہاں رات چترال سکاوٹس کی پوسٹ میں گذاری۔ ستار سکاوٹس والوں کے پاس تھا اور ستار نواز ہمارے ساتھ۔ شمس الدین نے ستار کے تاروں کو چھیڑا تو سماں باندھ دیا۔ دھن کھوار کے اس گانے کی تھی... ڈق تتے نیڥان انزیئمان اے ژانو یار لفافو سوم۔۔۔ شوم وطنہ دوست مو گانے بے وفو سوم۔ ستار کے ساتھ مقامی ساز دف کی سنگت بھی تھی۔ پہلے بیگ محمد نے رقص کیا اور پھر ہم نے بھی ان کی تقلید کی۔
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں۔۔۔ بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

شمس الدین چترال کے مشہور ستار نواز علی ظہور مرحوم کے طرز پر ستار بجاتے ہیں۔ علی ظہور کا کمال یہ تھا کہ وہ ستار کے تاروں کو ایک مخصوص انداز میں چھیڑتا تھا جس کی وجہ سے دھن میں ایک ایسا پرکیف تسلسل پیدا ہوتا تھا جو کہ سننے والے کو اپنے سُر کے دام میں گرفتار کیے رکھتا۔

ہم نے چوتھی رات کشمان جاء میں مومن بابا ( مرحوم ) کے ہاں میں گذاری ۔ قدم علی، مومن بابا کے صاحب زادے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوست منصور کے ساتھ مل کر ہماری خوب خاطر مدارت کی ۔ جولائی کی ۱۵ تاریخ کو ہم سکاوٹس پوسٹ بروغل پہنچے۔ پوسٹ کمانڈر صوبیدار صاحب نے ہمارے لیے بڑا عمدہ بندوبست کیا ہوا تھا۔ رات کو شکار کا تازہ گوشت کھلایا اور بانسری کی ایک محفل بھی سجائی گئی۔ بانسری نواز بروغل کے گاؤں چکار کا رہنے والا ایک نوجوان تھا ۔

بروغل سکاوٹس پوسٹ سے آگے ہمارے لیے سواری کے گھوڑوں کا انتظام تھا ۔ انتظام کرنے والے بروغل کی مشہور شخصیت مرزا رفیع تھے۔ ان سے ہمارے مراسم ان کے صاحبزادے عمر رفیع کے ذریعے تھے، جو پامیر پبلک سکول بونی میں ہمارا شاگرد تھا۔ ہماری اگلی منزل ان کا گاوں لشکر گاز تھا۔ یہاں حد نگاہ تک سر سبز و شاداب کھیت اور چراگاہ پھیلے ہوئے تھے۔ یہ سب مرزا رفیع کی ملکیت تھے۔ اس گاؤں میں کل چھ سات گھرانے آبا تھے۔ ہم نے تین دن اور چار راتیں مرزا رفیع کی رفاقت اور اُن کے صاحب زادہ عمر رفیع کی میزبانی میں گزارے۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار مال مویشی پالنے پر ہے۔ ان میں بھیڑ بکریاں ، گائے، خوش گاؤ (yak) ، گھوڑے اور گدھے شامل ہیں ۔ دن بھر چرنے کے بعد رات کو ان جانوروں کو گاوں میں جمع کردیا جا تا۔ ان کی نگہبانی کے لئے ان لوگوں نے بھڑیوں کی شکل اور جسامت کے کتے پال رکھے ہیں ہے ۔ یہاں رات کو عجیب سماں ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کسی بہت بڑے قافلے نے پڑاؤ ڈالا ہو۔ اور ہم اس پڑاؤ نما گاؤں کے بیجوں بیج رات گزارتے۔ یہاں جولائی میں ٹھنڈک کا یہ عالم تھا کہ رات کو دو دو رضائیوں کی ضرورت ہوتی، تاہم سورج نکلنے کے بعد ،موسم خاصا خوشگوار ہو جاتا ۔ لشکر گاز میں گذارے گئے یہ چار دن ہماری زندگی کے یادگار دن تھے ۔ اُن دنوں پورے بروغل میں کوئی ہسپتال اور سکول نہیں تھا۔کسی تکلیف کی صورت میں عموماً افیون سے علاج کیا جاتا۔ شاید اسی سبب سے یہاں افیون کی لت اب بھی بہت زیادہ ہے۔ علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کے سبب شرح اموات ، خصوصاً بچوں میں بہت زیادہ تھی۔ یہ حالات دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوا۔ واپسی پر ہم نے آغا خان سوشل ویلفیر بورڈ کو ایک خط کے ذریعے اس صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس کے نتیجے میں یہاں پر افیون کی عادت چھروانے کی ایک مہم چلائی گئی۔

یہاں قیام کے دوران شمس الدین نے فیصلہ سنایا کہ ہم درۂ در کھوت کو عبور کرکے یاسین جائیں گے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ درے کو پار کرنے کے لیے کئی میل گلیشیئر پر چلنا ہوگا۔ ہم میں سے کسی نے گلیشئیر پر سفر تو دور کی بات، گلیشئیر دیکھا بھی نہیں تھا۔ ہمارے پاس پیعام رسانی کو کوئی ذریعہ تھا اور نہ علاقے کا نقشہ تھا ۔مرزا رفیع صاحب نے ہمیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ہمارا امیر سفر ایسا شخص نہیں تھا جو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جائے۔ مرزا رفیع نے جب دیکھا کہ ہم ماننے والے نہیں ہیں تو ہمیں گلیشئیر پر سفر کے بارے میں ہدایات دیں۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم افیون اپنے ساتھ رکھیں جو زیادہ تھکاوٹ یا طبیعت کی خرابی کی صورت میں تھوڑی سی لی جائے۔ انہوں نے ایک مقامی نوجوان کو پانچ سو روپے کے معاضے پر ہمارے ساتھ جانے پر آمادہ کیا۔

صبح چار بجے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا ۔ درکھوت کی وادی میں داخل ہوتے ہی ہمارا سامنا گلیشئیر سے ہوا۔ گلیشئیر کا اگلا حصہ (Snout) دریائے چترال کے کنارے ہموار جگہ تک پہنچ رہا تھا اور اس کی برف پگھل کر ندی کی صورت میں دریا میں گر رہا تھا۔ گلیشیر کی سخت برف کے اوپر مٹی اور پتھروں کی ایک تہہ تھی۔ چار گھنٹے چلنے کے بعد ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں گلیشئیر کے اندر ایک غار سا تھا۔ غار کے اندر سے عجیب قسم کا شور اور یخ بستہ ہوئیں آ رہی تھیں۔ یہاں سے اصل چڑھائی شروع ہوتی جس پر ہمیں آٹھ گھنٹے چلنا تھا۔ اور اس درے کو مقامی لوگ چلینگکیو آن کہتے ہیں ۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے تقریباً۱۵ ہزار فٹ سے زیادہ ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ زیادہ بلندی کی وجہ سے کئی افراد کی سانس رکنے سے موت ہو چکی ہے۔

ہم نے گلیشر کے خوف ناک غار کی ایک جانب سے گلیشر پر چڑھنا شروع کیا ۔ یہ ایک انوکھا احساس تھا ۔کیوں کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسی جگہ نہیں دیکھی تھی۔ یہاں تا حد نگاہ برف ہی برف تھی۔ تیز اور ٹھنڈی ہواوں کے ساتھ گلیشر سے گرنے والے آبشاروں کے چھینٹے برف کے گولے بن کر چہروں پر پڑ رہے تھے ۔ کوئی دو سو گز چلنے کے بعد ہم ایک ایسی جگہے پر پہنچے جہاں ہمارے چاروں طرف برفانی تودوں کے اوپر سے پانی بہہ رہا تھا۔ اور ایک جمے ہوئے برفانی ٹیلے کے اوپر سے ہم اوپر چڑھ رہے تھے۔ یہاں پر ڈھلوان بہت زیادہ تھا، اور پاوں پھسلنے کی صورت میں موت یقینی تھی ۔ہم بہت احتیاط سے چل رہے تھے کیوں کہ ہمیں راستے کے خطرات کے بارے میں کافی ڈرایا گیا تھا ۔ ہمیں چلنے میں سخت دشواری پیش آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا ہم منوں بوجھ اٹھا کر چل رہے ہیں۔ ہمیں سانس اندر لے جانے کے لئے کافی زور لگانا پڑ رہا تھا اور جب سانس اندر جاتی تھی تو اُس میں ایک کمی کا سا احساس سا باقی رہ جاتا تھا۔ کان ہم سب کے بند ہو گئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کوئی ڈراونا خواب دیکھ رہے ہوں ۔ موت سے دوچار ہونے کا احساس اتنا شدید تھا کہ جب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تو افسوس بھری نظروں سے، جیسے ہم آخری بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں ۔

لیکن ہم چلتے رہے ۔ ہمارے پورٹر نے ہمیں تسلی دی کہ جب ہم اوپرپہنچیں گے تو چلنا ہمارے لئے آسان ہوگا کیوں کہ وہاں گلیشر ہموار ہے ۔ چڑھائی کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا کہ ہم سب بے حال ہو گئے ۔ ہمارے پورٹر کے پاس ایک چائے کی کیتلی، چائے کی پتیاں، چینی اور کچھ لکڑیاں تھیں ۔ ایک ہموار پتھر نظر آیا جس کے اوپر ہم سب آسانی کے ساتھ بیٹھ سکتے تھے ۔ چنانچہ ہم نے پڑاو ڈالا اور چائے بنائی ۔ چائے کے اُبلنے میں آدھا گھنٹہ صرف ہوا ۔ چائے تو پی لی مگر تھکاوٹ جوں کی توں رہی ۔ اس موقع پر ہمیں مرزا رفیع صاحب کا نسخہ یاد آیا ۔ ہمارے بروغل والے پورٹر کے پاس افیوں تھا۔ ہم نے تھوڑا سا منہ میں ڈالا اور اور جب چلنا شروع کیا تو تھکاوٹ کا نام و نشان نہیں۔ کہاں تھوڑی دیر پہلے والی حالت کہ پاوں اٹھانا مشکل ہو رہا تھا اور کہاں اب کہ ہم جیسے ہوا میں تیر رہے تھے۔ لیکن بیگ محمد نے آفیون نہیں کھایا۔

گلیشر کی ہموار سطح تک پہنچے کے لئے یہی کوئی دس منٹ کا فاصلہ رہ گیا ہوگا کہ بیگ محمد ہمت ہار گئے ۔ ان کے لیے ہمارے پاس آزمودہ علاج موجود تھا، لیکن بیگ محمد بضد تھا کہ وہ مر جائے گا لیکن آفیون نہیں گھائے گا ۔ ہم لوگوں نے آٖفیون کے فضائل اپنے اپنے انداز میں بیان کئے اور آفیوں کھانے سےہمیں جو فایدہ ہوا تھا، اُس کا تذکرہ کیا۔ لیکن بیگ محمد ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ ہم نے آٖفیون نہ کھانے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ میری ماں نے چلتے وقت ہدایت کی تھی کہ افیوں کے قریب بھی نہ جانا۔ بیگ محمد نے ماں کے ساتھ کیا ہوا وعدہ نہیں توڑا۔ لیکن جب اس نے ماں کا نام لیا تو اس میں نہ جانے کہاں سے ہمت آگئی کہ وہ جست لگا کر ہم سے اگے نکل گیا۔ تھوٹی دیر میں ہم ہموار سطح پر تھے۔

یہاں گلیشر کے اوپر تازہ برف پڑی ہوئی تھی ۔ برف کے نیچے ہلکی اور قدرے نیلے رنگ کی لکیریں نظر آ رہی تھیں ۔ ہمارے مقامی پورٹر نے ہمیں یہ تنبیہ کی کہ ہم گلیشر کے انتہائی خطرناک مقام کے اوپر سے سفر کر رہے ہیں ۔ گلیشر پر جگہ جگہ جو لکیریں نظر آ رہی ہیں یہ در اصل بہت بڑی دراڑیں ہیں ۔ اگر غلطی سے کوئی بندہ اس دراڑ میں گر جائے تو وہ سینکڑں فٹ کی گہرائی میں جا گرے گا ۔ اس ہموار سطح پر چلتے ہوئے تھوڑا سا اندازہ ہو گیا کہ گلیشئیر کیسے بنتے ہیں۔ اس مقام کے دونوں طرف اونچے اونچے پہاڑ تھے۔ ان پہاڑوں پر سارا سال برف باری ہوتی ہے اور یہ برف برفانی تودوں (Avalanche) کی صورت میں گرتی رہتی ہے۔ یہ برف جو اس طرح ہزاروں سال سے وادی میں جمع ہوتی رہتی ہے، اپنے بوجھ کے تلے وادی میں نیچے کی طرف سرکتی رہتی ہے۔ برف کے اس اہستہ بہاو کی وجہ سے اس میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ اسی بہاو کو گلیشئیر کہتے ہیں۔

خطرناک چڑھائی ختم ہونے سے ہماری جان میں جان آئی۔ اوپر موسم بھی بہتر تھا۔ میں نے اپنا ریڈیو آن کیا تو کہیں یہ نعمہ بج رہا تھا’’ ساتھی ہے خوب صورت اس موسم کو بھی خبر ہے "۔ مڑ کر بیگ محمد کی طرف دیکھا تو وہ مجھے سچ مچ بہت خوبصور ت لگے۔ منظر کچھ ایسا تھا کہ ہمارے چاروں طرف برف ہی برف تھی۔ جگہ جگہ نوکیلی چوٹیاں سر اٹھئے کھڑی تھیں۔ چلتے چلتے ہم ایک بہت بڑے پتھر تک پہنچے جس کے نیچے ایک غار سا تھا۔ ہمارا مقامی پورٹر دوڑ کر اُس پتھر کے اُوپر چڑھ گیا اور آذان دینے لگا۔ بے وقت آذان دینے کی وجہ دریافت کی تو ہمارے پورٹر نے کہا کہ بس اس پتھر پر چڑھ کر آذان دینا ضروری ہے۔ اس وقت زیادہ بحث کا موقع نہیں تھا اس لیے ہم چپ رہے۔

تھوری دیر میں گلیشئیر کا ہموار حصہ ختم ہو گیا اور ہم نیچے اترنے لگے ۔ خوش قسمتی سی دوسری طرف راستہ اتنا مشکل نہیں تھا۔ ہم تیرہ گھنٹے چلنے کا بعد درکھوت کی غاری (بلند پہاڑی چرا گاہ جہاں لوگ گرمیوں میں مال مویشیوں کے ساتھ قیام کرتے ہیں) پہنچ گئے۔ غاری میں سوائے ایک عمر رسیدہ شخص کے تمام مرد و زن جوان تھے۔ یہاں ہماری خوب خاطر مدارت کی گئی ۔ وہ بے موقع آذان والی بات مجھے بدستور کٹھک رہی تھی۔ میں نے معمر شخص سےاس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ کہانی سنائی:

بہت پہلے درکھوت کے ایک نوجوان کی شادی بروغل میں طے پائی۔ سردیوں کی آمد سے پہل پانچ افراد پر مشتمل بارات دولہا کو لے کر بروغل روانہ ہوئی ۔ درکھوت والے انتظار کرتے رہے لیکن بارات واپس نہیں آئی۔ اسی دوران موسم خراب رہا۔ درکھوت والوں کو یقین تھا کہ بارات خراب موسم کی وجہ سے بروغل ہی میں ٹھہر گئی ہوگی۔ لیکن اس سال برفباری وقت سے پہلے ہی آگئی اور رکنے کا نام ہی نہی لے رہی تھی۔ جلد ہی اتنی برف پڑی کی درہ مسدود ہوگیا۔ اگلی گرمیوں میں جب درہ کھل گیا تو درکھوت والے بارات کی تلاش میں بروغل گئے۔ معلوم ہوا کہ بارات دلہن کو لے کہ مقررہ تاریخ کو ہی نکل گئے تھے۔ جب درے کی تلاشی لی گئی تو ان سب کی لاشیں اسی چٹان کے نیچے ملیں ۔ اس وقت یہ رسم چلی آرہی ہے کہ مسافر اس چٹان پر چڑھ کر آذان دیتے ہیں تاکہ اس کی نخوست سے بچ سکیں ۔

درکھوت غاری میں تقریباً تین گھنٹہ سستانے کے بعد ہم نے بروغل سے ساتھ آئے ہوئے گائید کو واپس بھیج دیا۔ یہاں تھوڑا کچھ کھایا پیا اور نیچے آبادی کی طرف روانہ ہوئے۔ اس وقت نو بج چکے تھے اور اندھیرا چھا چکا تھا۔ ہمارے واحد ٹارچ کی بیٹری جلد ختم ہوگئی۔ ہم اندھوں کی طرح چل رہے تھے۔ ہمیں راستے کا کچھ اندازہ نہیں تھا۔ صرف اتنا معلوم ہورہا تھا کہ ہمارے ساتھ بہت گہرائی میں ایک پرشور ندی بہہ رہی ہے۔ میرے اپنے جوتے پھٹ چکے تھے اور پٹھروں سے میرے پاؤں لہو لہان تھے۔ کوئی دو گھنٹوں کی مسافت کے بعد دور ایک گاؤں میں لالٹین کی روشنی نظر آئی۔ اب ہم ایک نسبتاً ہموار علاقے میں داخل ہو چکے تھے۔ پندرہ یا بیس منٹ چلنے کے بعد ہم ایک ایسے راستے پر تھے جس میں ہر طرف پانی تھا ۔ میرے پاؤں کے چھالوں سے اب خون رسنا شروع ہوا تھا جس سے شدید درد ہونے لگا۔ پانی میں چلتے ہوئے میرا پاؤں زور سے کسی پتھر سے ٹکرایا اور میں گر پڑا۔ شمس الدین اور مظفر نے مجھے اٹھایا اور باری باری اپنی پیٹھ پر سوار کرکے آگے بڑھتے رہے ۔

بروغل میں ہمارے میزبان مرزا رفیع نے درکھوت میں ٹھہرنے کے لئے کریم خان نامی ایک ماسٹر صاحب کا نام بتایا تھا۔ شمس الدین اور مظفر مجھے پیٹھ پر لادے رات بارہ بجے تک درکھوت میں ماسٹر کریم کا گھر ڈھونڈ تے رہے لیکن اُس گھر کو نہیں ملنا تھا نہ ملا۔ ہمیں اسمٰعیلی جماعت خانے کی عمارت نظر آئی تو سوچا کہ اسی میں رات گذاریں گے۔ لیکن بقول غالب۔۔ مانا کہ دہلی میں رہیں گے پر کھائیں گے کیا۔۔۔ جماعت خانے میں خالی پیٹ رات گذارنا بھی آسان نہیں تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ جماعت خانے میں خالی پیٹ رات گزارنے یا ماسٹر کریم کے گھرکو ڈھونڈتے ڈوھونڈتے صبح کرنے سے بہتر ہے کہ جو بھی گھر نظر آجائے گھس جائیں گے۔ تھوڑا آگے جاکر ایک گھر نظر آیا۔ اب وقت بارہ بجے سے اوپر ہو چکا تھا ۔ بیگ محمد نے بڑے بے ہنگم طریقے سے گھر کا دروازہ کٹکٹھایا۔ یہ ایک دیسی طرز کا گھر تھا۔ برآمدے میں جالی لگی ہوئی تھی جو کہ اس علاقے کے طرز تعمیر کا حصہ ہے ۔ اندر سےایک بندہ لالٹین ہاتھ میں لئے برآمدے کی جالی میں آیا اور زور سے پوچھا ’’ کون ہن لا!‘‘ یعنی کون ہو ؟ بیگ محمد اپنے مخصوص بے ساختہ انداز میں کہنے لگے کہ ’’ اسپہ مسافران لہ برار ڥا یوزو موژی چھویئی گیتی اسوسی ‘‘ ۔ اُس نوجوان نے برآمدے کی جالی کا دروازہ کھولا اور ہم اندر داخل ہو گئے ۔یہ اُن کا اصل رہائشی مکان نہیں تھا بلکہ گرمیاں گزارنے کی عارضی رہایش گاہ تھی۔ اس لئے یہاں ایک ہی کمرہ بنا یا گیا تھا۔ ہم گھر کے اندر داخل ہوئے۔ اُس آدمی کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہمارا تعلق چترال سے ہے، تو ہمارے لیے اس کی ہمدردی میں اضافہ ہوا۔ اُس نے کہا کہ آپ چترا ل کے ہمارے عزیز مہمان ہیں۔ اُس گھر میں صر ف تین افراد رہتے تھے جن میں ہمارا میزبان اُسکی بوڑھی ماں اُسکی شریک حیات اور دو سال کا بچہ تھا ۔انہوں نے ہمیں طعام کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آپ نے لمبی مسافت طے ک، ہے آپ کو بھوک لگی ہوگی۔ فی الحال گھر میں روٹیوں کے ساتھ ساگ تیار ہے۔ کھانا تیار ہونے تک آپ یہ کھا لیں"۔ ہم نے انہیں مزید کھانا پکانے سے روک دیا کونکہ ہمارے لیے یہی کافی تھا۔ ہمیں ایسا لگا کہ ہم اپنے سگے بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ہم نے باتوں باتو ں میں کریم کا ذکر کیا تو ہمارے میزبان نے کہا کہ کریم میرا نام ہے ۔ لیکن یہ ماسٹر کریم نہیں تھا یہ دوسرا کریم تھا جو کہ فوجی تھا اور اس وقت اپنی چھٹیاں گزار رہا تھا ۔ اس بندے نے خلوص کی حد کردی جب اس نے گھر ہمارے لیے خالی کرکے گھر والوں کے ساتھ چھت پر جا کر سونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ہم نے کہا کہ چھت پر ہم سوئیں گے تاکہ تازہ ہوا کا لطف اٹھا سکیں۔ انہوں نے ہمارے لیے چھت پر فوم کے گدیلے بچھائے اور کمبلوں کے ڈھیر لگا دیا۔ اس نے میرے پاؤں کے زخموں پر جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مرہم بھی لگا دیا۔ رات ہم سکون سے سوئے۔ صبح اٹھے تو میرے زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکے تھے۔

صبح ناشتے میں ہمیں دیسی شہد ، تازہ مکھن، دیسی انڈے ، اور خستہ شاپک کے ساتھ عمدہ چائے ملی۔ اس گاؤں کے بالکل بیچوں بیچ وہی ندی گزرتی ہے جس کے ساتھ ساتھ چل کر پچھلی رات ہم گاؤں پہنچے تھے۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا نالہ نہیں تھا بلکہ اچھا خاصا دریا تھا۔ گلیشئیر سے قریب ہونے کی وجہ سے برف کے ٹکڑے اس میں بہہ کر آ رہے تھے۔ ہم نے بڑی مشکل سے یہ ندی کو عبور کیا، بلکہ مجھے شمس الدین نے اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر پار کرایا ۔ اُس وقت اُس ندی کے اوپر کوئی پل نہیں تھا ۔ اور لوگ اسی طرح اسے پار کرتے تھے۔ہمیں ندی پار کرانے کے بعد ہمارا میزبان ، محترم کریم خان ہم سے رخصت ہو گئے ۔ ہم کریم خان کے گھر سے کوئی ۱۱ بجے صبح روانہ ہو گئے تھے۔ ہم خراماں خراماں چلتے رہے ۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ رات کہا ں گزارنی ہے کوئی چار یا پانچ گھنٹے چلنے کے بعد ہم نے اک پل عبور کیا اور ترست نامی ایک گاؤں پہنچ گئے۔ سامنے ٹیلے کے ساتھ ملحق ایک چھوٹامگر بہت ہی دلکش مکان تھا ۔ بیگ محمد بلا تامّل اندر گھس گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا اور ہمیں ساتھ لے کر گھر میں یوں داخل ہوا جیسے یہ اس کا اپنا گھر ہو۔ ہم اندر داخل ہوگئے تو گھر کے تمام افرد نے ہمارا کچھ اس گرم جوشی سے استقبال کیا کہ گویا ہم اُن کے قریبی عزیز ہوں۔ معلوم ہوا کہ بیگ محمد کا اس طرح گھر میں گھسنا بلا وجہ نہیں تھا ۔گھر کا سربراہ جس نے ہمیں اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا تھا اُس کا نام دوست خان تھا اور گاؤں میں ’’دوستی بابا‘‘ کے نام سے مشہور تھے ۔ان کا خاندان کسی زمانے میں گازین یارخون سے یہاں اکر آباد ہوا تھا ۔ یہ لوگ پھلتے اور پھولتے رہے اور جب ہم سن ۱۹۹۵ ء میں وہاں گئے تھے تو ان کے کئی گھرانے بن چکے تھے ۔

ہمارے لیے فوری طور پر ایک بکرا ذبح کیا گیا ۔ دوستی بابا نے حکم دیا کہ پہلے کلیجی بھون کر ہمیں پیش کی جائے۔ دوستی بابا پورے خاندان کے ساتھ رات گئے تک ہمارے پاس بیٹھے رہے اور یارخون میں اپنے راشتہ داروں ، اپنے آبا و اجداد کی ہجرت اور اپنی زندگی کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ اُس رات ہمیں تین مرتبہ کھانا کھلایا گیا۔ ناشتے کی نشت بھی پورے خاندان پر مشتمل تھی۔ یہاں صبح کاناشتہ بالکل کریم خان کے گھر کے ناشتے کی طرح تھا ۔ اس کے علاوہ یہاں ہمیں بکرے کے روسٹ اور یاسین کی خاص خوبانیاں بھی کھلائی گئیں۔ ہم جب روانہ ہونے لگے تو دوستی بابا اور اُس کے گھر ہمیں رخصت کرتے ہوئے رونے لگے اور ہم بھی آب دیدہ ہوے بغیر نہ رہ سکے۔

ہماری اُن لوگوں سے کوئی جان پہچان نہیں تھی بس یہ اُن لوگوں کی محبت تھی۔ یہ رویہ صرف دوستی بابا تک محدود نہیں بلکہ اس وادی میں رہنے والے تمام لوگ ایسے ہی ہیں۔ ہم جہاں جہاں بھی گئے ہمارے ساتھ یہی برتاو ہوا۔ ہم بہت جلد اس علاقے اور لوگوں سے مانوس ہو گئے۔ ہم اتنے نے باک ہو گئے کہ ہر گلی کوچے، ہر گھر میں بے دھڑک داخل ہونے لگے۔ حالانکہ یہ سہولت ہمارے اپنے گاؤں میں بھی ہمیں میسر نہیں تھی۔ ہون دور کے گاوں میں (جسے بعد میں لالک جان شہید کے حوالے سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی) ایک جگہ آغا خان سکول بن رہا تھا۔ ہم دیکھنے کو رکے تو ایک صاحب سے علیک سلیک ہوئے۔ معلوم ہوا وہ بھی ہماری طرح ٹیچر ہیں۔ پھر کیا تھا اس نے پیشہ ورانہ ہمدردی کے تحت ہمیں چائے کی دعوت دی۔ اُن کے گھر میں ہماری خوب پذیرائی ہوئی ، چائے کے بجائے ہم نے دن کا کھانا کھایا اور سارے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ۔ ان لوگوں نے رات گذارنے کے لیے بہت زور دیا لیکن ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔

یہاں سے ہم نے دوبارہ ایک پل عبور کیا اور یاسین برکولتی سے ہوتے ہوئے طاؤس کی طرف جا نکلے۔ طاؤس یاسین کا ایک چھوٹا مگر بے حد دلکش گاؤں ہے۔ برکولتی اور طاؤس کو ملانے والے پل کے قریب پہنچ کر تصویر کشی کر رہے تھے کہ ایک نوجواں نے سلام کیا اور ہم سے تعارف کے بعد ہمیں اپنے گھر پر دعوت دی اُس کا نام شبیر شاہ تھا اُس وقت وہ دسویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ اُن کے والد صاحب خلیفہ کہلاتے تھے ۔ شبیر شاہ کے گھر پر بھی ہماری خوب آو بھگت ہوئی۔ رات کو دیسی مرغی اور تازہ سلاد سے ہماری خاطر مدارت کی گئی اور رات کو خوب نیند آئی ۔

صبح ہم یہاں سے روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ تھا کہ بجیوٹ جاکے مشہور سرنا نواز استاد حاجت قبول سے مل لیں گے۔ لیکن ہم جیسے ہی بجیوٹ کے قریب پہنچے تو پیچھے سے اے۔ کے۔ آر۔ ایس۔ پی کی ایک گاڑی آگئی اور بیگ محمد کے ہاتھ کے اشارے سے رک گئی۔ ہم اس قدر پیدل چل چکے تھے کہ اس پیش کش کو رد کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ استاد حاجت قبول سے ملے بغیر ہی ہم گاڑی میں بیٹھ کر گوپس روانہ ہوئے۔

اگلے دن شندور میں شندور پولو ٹورنامنٹ کا اختتام ہونے والا تھا اور ہم کوشش کر رہے تھے کہ ہم یہ کھیل دیکھ سکیں۔ لیکن ابھی تک بر وقت شندور پہنچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ گوپس میں میرے مراسم وزیر اکبر کے ساتھ تھے لہذا میں نے اُن سے رابطہ کیا۔ وزیر اکبر صاحب پیپلز پارٹی کے سرگرم کارکن اور بھٹو صاحب کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ خوش قسمتی سے وزیر اکبر صاحب شندور کے لیے روانہ ہونے ہی والے تھے۔ ان کے گھر پر کھانا کھایا اور ان کی بڑی آرام دہ گاڑی میں بیٹھ کر ہم نے محبتوں کی اس سرزمین کو الوداع کہا۔

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com