<= Back to ARTICLES Page

پشتو شاعری کے عروضی قواعد

پروفیسر جمیل یوسفزئی

علم عروض کا آغاز عربی میں ہوا، جہاں سے یہ فارسی میں آیا۔ اردو اور دیگر کئی مشرقی زبانوں نے اسے فارسی سے اخذ کیا۔ تاہم ہمارے ہاں کی بعض زبانوں کے شعراء کے لیے اس فن کا استعمال ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہا ہے۔ اول تو یہ فن بذات خود بہت مشکل ہے اور پھر ہماری زبانوں کی ساخت بہت الگ ہے اس لیے بہت کم شعراء عروض کا استعمال کرسکتے ہیں۔ چنانچہ باقی شعراء بغیر قواعد و ضوابط کے شعر لکھتے رہے ہیں۔ پشتو کے شعراء نے اس مسئلے کا ایک سادہ اور آسان حل تلاش کیا ہے، جس کا تعارف معروف شاعر، مورخ اور ماہر تعلیم پروفیسر جمیل یوسفزئی پیش کر رہے ہیں۔ کھوار اور دیگر زبانوں میں شاعری کرنے والے اس طریقے سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ (ایڈیٹر)

پشتو زبان کی ادبی تاریخ کا آغاز روشنائیہ1 مکتب فکر سے ہوتا ہے۔ بایزید انصاری نے خیر البیان کے کے نام سے ایک کتاب مقفٰی نثر میں لکھی۔ ان کی اپنی مادری زبان اُرمڑی2 تھی لیکن اپنے متصوفانہ خیالات کو عوام تک پہنچانے کے لیے خیر البیان کو الہامی انداز میں پشتو زبان میں لکھا۔ بایزید کے بعد ان کے مریدوں اور شاگردوں ارزانی اور دولت وغیرہ نے پشتو زبان کو شاعری سے آشنا کیا۔ اس شاعری کا رنگ متصوفانہ ہے اور زبان فارسی افکار و تصورات سے بھری پڑی ہے۔

روشنائی تحریک کی شدید مزاحمت سید علی ترمذی العروف پیر بابا 3 اور ان کے شاگرد آخوند درویزہ کی طرف سے ہوئی۔ سید علی ترمذی کی کتاب مکتوبات تو فارسی میں تھی لیکن آخوند درویزہ نے اپنی تصنیف مخزن کو پشتو میں لکھا۔ ان دونوں کی اولاد نے شاعری میں بھی طبع آزمائی کی اور یہ سلسلہ کئی دھائیوں تک چلا۔ اس سلسلے کے سب سے اہم شاعر سید حسین تھے جو رحمان بابا کے ہمعصر تھے۔ خوشحال خان خٹک کہتا ہے کہ مجھ سے پہلے پشتو میں تصنیف و تالیف اور شاعری کا رواج نہیں تھا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سے بہت پہلے روشنائیوں نے نہ صرف پشتو نثر لکھی بلکہ شاعری بھی کی۔

پشتو قدیم ایرانی زبان اوستا4 سے نکلی ہے۔ اوستا میں عربی کی طرح شعری بحور و اوزان نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی کے بحور و اوزان کے پشتو میں استعمال کا تجربہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اس قسم کا اولین تجربہ شرف الدین نے کیا جو بقول عبد الحئی حبیبی5 کے کنڑ کے رہنے والے تھے اور مغلوں کے آخری دور میں دہلی میں رہے۔ شرف الدین کا پشتو شعراء پر زیادہ اثر نہیں ہوا اور عربی عروضی قواعد پشتو میں رواج نہ پا سکے۔

موجودہ دور میں سمندر خان سمندر نے اپنی کتاب "قافیہ" میں یہ کوشش کی کہ پشتو شاعری کو عربی فارسی کے عروضی قواعد کے دائرے میں لائے۔ تاہم ان کی کوششوں کو بھی قبول عام حاصل نہ ہوا۔ ان کوششوں کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پشتو زبان کا مزاج ان قواعد کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا۔اس جہ سے پشتو میں شاعری کا اپنا ایک سادہ اور آسان قاعدہ وجود میں آیا جسے "سیلاب" کہا جاتا ہے۔ سیلاب لفظ کے متحرک حصوں کو کہتے ہیں اور اور ان حصوں کی تعداد شعر کا پیمانہ ہے۔ مثلا رحمان بابا کے اس شعر کے ہر مصرعے میں بارہ بارہ سیلاب ہیں:

ما سحر صبا لیدلے وو د چا مخ
چی می درستہ ورز ونہ لیدلو دا ستا مخ

ترجمہ: میں نے صبح صبح کس کا منہ دیکھا تھا کہ تمام دن تیرے دید سے محروم رہا۔
یہاں "ما" ایک سیلاب ہے جبکہ "سحر" دو سیلاب پر مشتمل ہے یعنی "سَ" اور "حر"۔

ما سَ حر سَ با لی دِ لے وو د چا مخ
چی می درس تہ ورز و نہ لی دو دا ستا مخ

اسی طرح پشتو صنف ٹپہ (لنڈئی) کا پہلا مصرع نو سیلاب کا ہوتا ہے اور دوسرا تیرہ سیلاب کا۔ مثلاً:

ځان ئی زړوجامو کښی جوړ کړو
لکه په وران کلي کښی باغ د ګلو وينه

ترجمہ: محبوبہ نے پھٹے پرانے کپڑوں میں خود کو یوں سنوار لیا ہے جیسے کسی اجڑے گاؤں میں پھولوں کا باغ ہو۔

ځان ئی زړ وُ جا مو کښی جوړ کړو
لَ کہ پہ وران کَ لی کښی دَ باغ گُ لو وی نہ

پشتو کی ایک مشہور صنف چار بیتہ سے ایک مثال ملاحظہ کیجئے . شاعر ہیں بابائے چاربیتہ عبد الواحد ٹھیکہ دار:

پلټنے راغلے په قصور باندے
د ډاکه مارو په دستور باندے
چودهری صلاح کوی د خور سره
ابه به حښمه د لاهور سره

ترجمہ:جب فوجیں ڈاکووں کی طرح قصور تک آگئیں اور (جنرل) چودھری اپنی بہن سے کہتا ہے کہ آج میں لاہور کا پانی پیوں گا۔ (1965 کی جنگ کا تذکرہ ہے)
اس کے ہر مصرعے میں دس سیلاب ہیں۔

اس طرح مصرعوں کی تقسیم اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کو آسان بنایا گیا۔ چونکہ پشتو زبان کی صوتیات، اس لہجہ اور مزاج، سب کچھ دوسری زبانوں سے بہت مختلف ہے، اس لیے عربی فارسی کے عروضی قوانین کی یہاں پابندی بہت مشکل ہے، جب کہ "سیلاب" کا طریقہ بہت آسان اور سادہ ہے جسے ہر کوئی معمولی کوشش سے سیکھ سکتا ہے۔

نوٹس

(ایڈیٹر)

1. روشنایہ تحریک

بایزید انصاری کا تعلق وزیرستان کے ارمڑی قبیلے سے تھا۔ وہ ایک صوفیانہ اصلاحی تحریک کے بانی تھے۔ ان کے مرید انہیں پیر روشن کہتے تھے اور مخالفین پیر تاریک۔ ان کے متبعین روشنائیہ کہلائے اور یوسف زئی پشتونوں کی ایک بڑی تعداد ان کی پیرو کار بن گئی۔ انہوں نے مغل بادشاہ اکبر کے خلاف تلوار اٹھائی۔ پیر بابا اور آخوند درویزہ نے بایزید کو گمراہ قرار دیا اور اس کے مقابلے میں لشکر کشی کی جس میں شاید مغلوں کی امداد بھی شامل تھی۔ کئی جنگوں کے بعد آخر روشنائیوں کو شکست ہوئی اور ان کی تحریک اس علاقے سے ختم ہوگئی۔ بایزید کی اپنی زبان پشتو نہیں بلکہ ارمڑی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی ایک کتاب "خیر البیان" پشتو میں لکھی۔ یہ پشتو زبان کی قدیم ترین کتاب ہے جو موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ خیر البیان میں اردو اقتباسات بھی موجود ہیں، جس سے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اردو تحریر کی قدیم ترین نمونے ہیں۔ روشنائیہ تحریک میں عورتوں کی حالت کو بہتر بنانا اور تعلیم کا فروغ جیسی چیزیں نمایاں تھیں۔

2. ارمڑی

برکی قبیلے کے لوگوں کی زبان جو پاکستان کے علاقے وزیرستان میں رہتے ہیں۔ ارمڑی ایرانی گروہ کی زبانوں میں سے ہے۔ اس زبان کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

3. سید علی ترمذی (پیر بابا) اور آخوند درویزہ

سید علی ترمذی کا تعلق ترکستان سے تھا اور نسلاً شاید تاجک تھے۔ آپ نے علم اور روحانی فیض کی تلاش میں دورسراز کا سفت کیا۔ آپ نے یوسفزئی پشتونوں کے علاقے میں دین کی ترویج اور رد بدعات کے لیے کام کیا۔ آپ کے کام کو اپ کے مریدوں خصوصاً آخوند درویزہ نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے روشنائیہ مکتب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بالاخر علاقے سے اس کا خاتمہ کیا۔ پیر بابا کا مزار بونیر میں اور آخوند صاحب کا پشاور کے نزدیک بہادر کلی میں ہے۔ آخوند درویزہ نے کئی کتابیں لکھِیں جو علاقے کی تاریخ اور تہذیب کے اہم ماخذ میں سے ہیں۔ ان کی کتابوں میں سے تذکرۃ الابرار والاشرار فارسی میں اور مخزن الاسلام پشتو میں نہایت اہم ہیں۔

4. اوستا

یہاں اوستا سے مراد پارسیوں کی مقدس کتاب نہیں بلکہ ایک قدیم ایرانی زبان ہے، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پشتو اور بلوچی وغیرہ اسی کی باقیات ہیں۔ پارسیوں کی مقدس کتاب اوستا بھی اسی زباں میں لکھی گئی تھی۔

5. عبد الحئی حبیبی

افغان دانشور اور محقق جس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک پرانی پشتو کتاب "پٹہ خزانہ" دریافت کی ہے، جس میں پشتو شعر و ادب کی ہزار سال سے زیادہ پرانی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ تاہم پاکستانی پشتون محققین نے ان کے دعوے کو مظبوط دلائل کے ساتھ رد کر دیا۔

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com